Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430


دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کا تعارف

مولانا محمد جمال قاسمی ناظم دینی تعلیمی بورڈ


جمعیۃ علماء ہند نے اپنے قیام سے ہی آزادئ وطن کی جدو جہد کے ساتھ ساتھ مذہبی ،تمدنی اورشعائرے اسلا م کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات بھی انجام دیئے ہیں ۔ ۱۹۲۲ء میں سوامی شردھانند کے ذریعہ ’’شدھی سنگٹھن‘‘تحریک اور دیگر تحریکات کے فتنۂ ارتدادکے وقت جمعیۃ علماء ہند کی خالص تبلیغی سرگرمیاں اور مسلمانوں کو اس فتنۂ عظیم سے محفوظ رکھنے کے لیے مبلغین کو بھیجنا اور جگہ جگہ دینی مکاتب اور مدارس کا قائم کرنا ؛ اس کی خالص دینی سرگرمیوں کا روشن باب ہے۔


تقسیمِ ملک کا مطالبہ جمعیۃ علماء ہند کا نہیں تھا؛لیکن ۱۹۴۷ء کے انقلاب نے جو صورتِ حال اختیار کی اگر چہ جمعیۃ علماء ہند اس کی ذمہ داری سے قطعاً سبکدوش تھی؛لیکن واقعات شاہد ہیں کہ جمعیۃ علماء ہند کے اکابر اور خدام نے اس منطقی بحث میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا کہ ’’جان ومال اور عزت و آبرو کی بے پناہ تباہیوں اور بربادیوں کا ذمہ دار کون ہے‘‘؛بلکہ جیسے ہی فتنہ وفساد کی شر انگیز تیروں نے عزیزانِ ملت کی طرف رخ کیا جمعیۃ علماء ہند کے رفقاء ،راہنما اورحضرات اکابرین قوم کی خدمت کے لیے سروں پے کفن باندھ کر بے خطر میدانِ عمل میں کود پڑے۔
اب ایک طرف تباہی وبر بادی کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں گھس کر مسلمانوں کی بر وقت امداد ،اغوا شدہ عورتوں اور بچیوں کی بر آمدگی،اور خوف زدہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی وغیرہ کی سر فروشانہ جدو جہد جاری تھیں تو دوسری طرف ان حامیانِ ملت اور علم بردارانِ وارثِ انبیاء کی نظریں دینی تعلیمات ، تہذیبِ اسلامی کے تحفظ و بقاء اور ارتدادی فتنوں سے امّت کو بچانے پے تھیں۔
ان حالات میں مذہبی تعلیم کی اہمیت ،ضرورت اور افادیت کے پیش نظر ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد جیسے ہی ملک میں امن وامان کی فضا کچھ بحال ہوئی جمعیۃ علماء ہند نے ۲۰؍۲۱؍مارچ ۱۹۴۸ء میں دہلی میں ارکانِ عاملہ کا کل ہند اجلاس طلب کیا ؛جس میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، ؒ مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ ،سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی ؒ ،سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی ؒ اور مولانا ابولکلام آزاد ؒ جیسے وقت کے جلیل القدر علماء اور ذمہ داران قوم اس اجلاس میں شریک ہوئے اوریہ طے کیاکہ ’’ اسلام، شعائرے اسلام ،اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت،مسلمانوں کے مذہبی ،تہذیبی، تعلیمی اور تمدنی حقوق کا حاصل کرنا جمعیۃ علماء ہند کا فرض ہے،جمعیۃ علماء ہنداس فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی گوارہ نہیں کرے گی‘‘۔ [خطبۂ صدارت دینی تعلیمی کانفرنس: ص ۷ا:از حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ؒ مہتمم دار العلوم دیوبند، منعقدہ ۳؍۴؍ جون ۱۹۶۱ء ،بمقام ضلع سہارنپور]
ابھی صرف ایک ہی مہینہ گذرنے پایا تھا ؛کہ ۱۶؍۱۷؍ جمادی الثانی۱۳۶۷ھ ۲۶؍ ۲۷؍ اپریل ۱۹۴۸ء کو ملک کے صنعتی شہر بمبئی کے اجلاس میں تجویز منظور کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ؛کہ’’ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس عام ابتدائی تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو شدت سے محسوس کر تے ہوئے تمام ماتحت جمعیتوں پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے حلقۂ اثر میں ابتدائی مدارس اور شبینہ صباحی مکاتب قائم کرکے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو مذہبی عقائد سے واقف کرانے کی کوشش کریں ،اور اس بلند و بالا مقصد کو کامیاب کرنے کے لئے اپنی پوری جدو جہد صرف کر دیں ‘‘۔ [جمعیۃ علماء ہند،دستاویزات: ص۳۸،ڈاکٹر رضی کمال)


اس اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں اس کی مزید وضاحت کی اور یہ اعلان کیا؛کہ’’ اس کی ایک مختصر لیکن کامیاب صورت یہ ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کا ہر ایک ممبر اشاعت تعلیم کو اپنا فرض تصور کرے اور عملی،علمی یا مالی امداد کا ایک معتد بہ حصہ ان مکاتب و مدارس کے لئے وقف کر دے جو مذہبی تعلیم کے لیے قائم کئے جائیں‘‘ ۔ (جمعیۃ علماء ہند،دستاویزات ص.۲۶...،ڈاکٹر رضی کمال)

پھر ۱۶؍۱۷؍۱۸؍ اپریل ۱۹۴۹ء ؁ اجلاسِ عام منعقدہ لکھنؤ میں بنیادی مذہبی تعلیم سے متعلق یہ تجاویز منظور کی گئیں اور اعلان کیا گیا؛کہ
(الف) سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے مسلمان بچوں کی ضروری مذہبی تعلیم کا انتظام کیا جائے۔
(ب) جو ابتدائی اسلامی مکاتب پہلے سے قائم ہیں یا آ ئندہ قائم ہوں ؛ان میں حکومت کے تعاون[منظوری]سے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ لازمی بنیادی [پرائمری درجہ پانچ کی] تعلیم کا نصاب بھی جاری کیا جائے-
(ج)ہر مسلمان کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو روز آنہ کسی نہ کسی شکل میں کم از کم ایک گھنٹہ مذہبی تعلیم ضرور دلائے۔
(د)جمعیۃ علماء ہند مسلمان بچوں کی ابتدائی مذہبی تعلیم کے لیے نصاب مرتب کرے،اور اسکولوں اور مکتبوں میں اسے جاری کیا جائے۔(جمعیۃ علماء ہند،دستاویزات: ص۸۴،ڈاکٹر رضی کمال )


 

تعلیمی تحریک کو عام کرنے کے لیے جدوجہد

بنیادی مذہبی تعلیم کے متعلق یہ فکر اوراحساس ابھی جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ طبقہ میں محدود تھا ،اس احساس اور تحریک کی عوامی فضاء بنانے کے لیے جگہ جگہ دینی تعلیمی کانفرنسیں منعقد کی گئیں،اور عوامی پروگرام ہوئے ۔چنانچہ لکھنؤ ،کانپور،احمد آباد،بمبئی،دہلی ،مظفر نگر،الہ آبا د ،بستی،ٹونک ،ناگپوراور سہارن پور وغیرہ میں تعلیمی کانفرنسیں ہوئیں ،جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان اورمبلغین تحریر وں ،تقریروں،پمفلٹ،اپیلوں اور اجلاس کے ذریعہ اس تحریک پر لگ گئے،شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ اور اکابرینِ جمعیۃ نے اپنے تلامذہ ،متعلقین اور متوسلین کو جمعیۃ علماء ہند کے اس تعلیمی مشن پر لگا دیا۔


اس موقع پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ؛جنگ آزادی کے آخری تیس سالہ دور نے جس میں صرف انقلاب پسند خواص کو ہی نہیں بلکہ عوام کے ذہنوں کو بھی ہنگامہ پسند بنا دیا تھا ؛ان کو تعلیم جیسے نہایت خاموش اور تعمیری کاموں کی طرف متوجہ کرنا ،اُن کے احساسات بیدار کرنا،اُن میں حرکت عمل پیدا کرنا یقیناًمحنت و کاوش ،ہمہ گیر جدو جہد،تد ریجی مر احل ا ور درجہ بدرجہ مختلف منازل کے طے کرنے کا محتاج رہا ہے جس میں جمعیۃ علماء ہنداور اس کی صوبائی اور مقامی شاخوں کی عظیم الشان خدمت یہ ہے کہ انھوں نے اس عرصہ میں یہ کٹھن اور دشوار منزلیں طے کیں،ارتدادی لہر جن علاقوں میں اٹھی ان علاقوں میں جمعیۃ علماء ہند نے مکاتب کا نظام شروع کیا،اور جہاں مناسب حالات رہے وہاں عوام الناس نے بھی مکاتب کی جانب توجہ دی۔خدا کا شکر ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی سعئ پیہم کامیاب رہی،بفضلہ تعالی ابتدائی دینی تعلیم کے متعلق احساس عام ہوچلااور عملی حرکت بھی پیدا ہوئی۔ اور خدام جمعیۃ علماء ہند کی محنتوں سے یہ ثابت ہو چلا کہ جس طرح ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد اکابرِ دارالعلوم دیوبند کی قربانیوں سے برِ صغیر میں موجودہ نہج پر مدارس کی تحریک نے جنم لیا ٹھیک اسی طرح ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی قربانیوں سے ملک میں مکاتب کی تحریک نے جنم لیا۔ اللہم زد فزد(آمین)۔

 

دینی تعلیمی بورڈکا قیام

ابتدائی کوششوں اور محنتوں کے بعد ضرورت اس بات کی ہوئی کہ وطن عزیز میں دور دراز ،گاؤں دیہات، پسماندہ ، ارتداد زدہ علاقوں اور ملک کے کونے کونے میں بسے ہوئے مسلمانوں کے ایمانی تحفظ کے لیے شہر شہر اور گاؤں گاؤں اس تحریک کو عام کیا جائے،اور خدامِ جمعیۃ علماء ہند کی انتھک محنتوں کے بعد ’’تعلیمی تحریک ‘‘ کے لیے جو ابتدائی احساسات بیدار ہوئے ہیں؛ اسے عملی جامہ پہناکر منظم کیاجائے۔چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند نے ۸؍۹؍ جنوری ۱۹۵۵ء ؁ [ مجاہدِ ملت مولانا حفظ الر حمٰن سیو ہارویؒ ایک سیاسی مطالعہ:ص ۲۹۶: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری: جمعیۃ علماء ہند،دستاویزات: ص۴۹۹،ڈاکٹر رضی کمال : روزنامہ الجمعیۃدسمبر ۱۹۵۴ء تا ۱۴؍جنوری ۱۹۵۵ء ] کو ملک کے صنعتی شہر ممبئی کے قیصر باغ ہال میں ایک عظیم الشان کل ہند تعلیمی کنونشن منعقدکیا،جس میں ملک کے مختلف مکتبۂ فکر کے مقتدر علماء کرام ، یونیورسٹی کے اسکالرس اور زعماء قوم شریک ہوئے،ملکی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے غور و فکر کے بعد ’’ مر کزی دینی تعلیمی بورڈ ‘‘ کا قیام عمل میں آیا،اور اسی اجلاس میں مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الر حمٰن صاحب سیوہاروی ؒ سابق ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند کو ’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ ‘‘ کا جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا۔[ مجاہدِ ملت مولانا حفظ الر حمٰن سیو ہارویؒ ایک سیاسی مطالعہ:ص ۲۶۱: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پور)


’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ‘‘ کے تعلیمی نصاب کے لیے پانچ سالہ کورس مرتب کیاگیا۔جن میں ’’قاعدہ حروف شناسی‘‘ ،’’اردو عربی قاعدہ‘‘ ،
’’دینی تعلیم کارسالہ‘‘[ بارہ حصّے] کو سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب ؒ نے مرتب کیا،مولانا مقبول احمد صاحب سیوہاروی ؒ نے بچیوں کے لیے ’’لڑکیوں کا اسلامی کورس‘‘[حصہ اول تا حصہ پنجم] مرتب کیا، اور مفتئ اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کی تصنیف کردہ ’’تعلیم الاسلام‘‘[مکمل چار حصہ]کو شاملِ نصاب کیا گیا۔


بچوں کی نفسیات کا خیال کر کے تعلیم کو آسان اور سہل بنانے نیز حضراتِ معلمین کی تدریب اور طریقۂ تعلیم وغیرہ سے متعلق سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی ؒ سابق ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند نے ’’تعلیمی کارڈ‘‘،’’تصویری چارٹ‘‘،’’طریقۂ تقریر ‘‘[اول ،دوم]،مختلف عنوانات سے اٹھائیس کتابچہ،’’دینی تعلیمی تحریک اور دستور العمل‘‘اور’’مؤلہ تعلیم اورطریقۂ تعلیم‘‘ وغیرہ کتابیں تصنیف کیں۔ ’’ دینی تعلیمی بورڈ‘‘ کے طریقۂ کار کو مرتب کیا،ہر سال کے ششماہی[سمسٹر وائز]مقدارِ تعلیم طے کی ،شبینہ صباحی مکاتب اور کل وقتی مکاتب کے تعلیمی نظامِ کا خاکہ تیار کیا۔ 


نصاب کی تیاری میں اراکینِ ’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ ‘‘کے یہ مقاصد تھے کہ تصحیح ِ مخارج کے ساتھ ناظرہۂ قر آن پاک مکمل ہو اور بقدرِ ضرورت چند سورتیں حفظ کرادی جائیں ،آسان ،سہل اور بچوں کی نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عام فہم انداز میں عقائد،عبادات،اسلامی اخلاق ، اسلامی تہذیب، ارکانِ اسلام کے ضروری مسائل،سیرتِ مقدسہ صلی ٰ اللہ علیہ وسلم،سیرتِ خلفائے راشدینؓ وغیرہ کو ذہن نشیں کرا دیا جائے ، ایسی تربیت کی جائے جن سے طالب علم مکمل اسلامی تہذیب میں ڈھل جائے، اور عقائدِ اسلام کے عقلی ونقلی دلائل کو عام فہم اور آسان انداز سے ذہن میں اس طرح بیٹھادیا جائے جس سے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوکر دل بالکل مطمئن ہو جائے ۔
’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ ‘‘ کو منظم کر نے کے لیے مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کے تحت صوبائی سطح پر ملک کے مختلف صوبوں میں ’’دینی تعلیمی بورڈ ‘‘ کا قیام عمل میں آیا،اور پھر اس کے تحت ضلع وائز کمیٹیاں قائم کی گئیں۔


فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند نے اپنے زمانۂ نظامت و صدارت میں ارتداد زدہ علاقوں میں مکاتب کی جانب خصوصی توجہ دی،ایسے علاقوں میں بارہا سفر فرمایا کرتے تھے اور حسبِ تقاضہ ان علاقوں میں اپنی نگرانی میں مساجد وغیرہ کی تعمیر کروائیں ا ور بوسیدہ شدہ کی مرمت کرائی۔ آپؒ کی خصوصی فکر اور محنتوں سے مختلف صوبوں میں صوبائی’ ’دینی تعلیمی بورڈ‘‘کو بہت ہی فعال اور منظم کیا گیاجس کے تحت گاؤ ں گاؤں مکاتب کا قیام عمل میں آیا۔


جمعیۃ علماء ہند کے ۲۹؍ اجلاسِ عام (منعقدہ:۲۰۰۹ء بمقام حیدر آباد،زیر صدارت :امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری مد ظلہ صدر جمعیۃ علماء ہند)میں ’’دینی تعلیمی بورڈ‘‘ کی تشکیلِ جدید ہوئی،جس میں شعبہ’’دینی تعلیمی بورڈ‘‘ کا صدر حضرت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی مدظلہ مہتمم دار العلوم دیوبند کو بنایا گیا اور حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم استاذِ حدیث مدرسہ شاہی مراد آبادورکن مجلسِ عاملہ جمعیۃ علماء ہند کو ’’دینی تعلیمی بورڈ ‘‘ کانا ظمِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔
امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری مد ظلہ صدر جمعیۃ علماء ہند اورحضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہندکی خصوصی توجہ سے ’’ دینی تعلیمی بورڈ‘‘کی تشکیلِ جدید کے بعد فدائے ملّت حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ کے وقت سے قائم پسماندہ اور ارتداد زدہ علاقوں کے مکاتب کے نظامِ کار کو مزید وسیع اور مستحکم کیا گیا ہے،موجودہ عصری تعلیمی نظام کو دیکھتے ہوئے شہری علاقوں میں بھی شبینہ صباحی مکاتب کے قیام اور اس کے نظام میں استحکام لانے کے لیے خصوصی توجہ دی جارہی ہے، صوبائی اور علاقائی یونٹوں کو مضبوط کرنے اور ’دینی تعلیمی بورڈ‘ کے نظام میں اجتماعیت اور وفاقیت پیدا کرنے کے لیے محنتیں ہو رہی ہیں ،عصری تعلیمی تقاضوں کے مدِ نظر نصاب پر نظرِ ثانی اور ترتیب و تہذیب کا کام ہو رہاہے،سیکولر ملک میں ایمانی تحفظ اور اسلامی تشخص برقرار رکھنے کے لیے’’دینی تعلیمی بیداری مہم ‘‘چلائی جارہی ہے، دینی تعلیم کی ضرورت اور تقاضوں کے پیشِ نظرجگہ جگہ تعلیمی کانفرنسوں کا انعقاد عمل میں آرہا ہے۔