Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

*"رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی"*
✍🏻
محمد نعمان مکہ مکرمہ
  🌴 میسور فقہ اکیڈمی 🌴


قسط اول :

ہمارے فانل ایئر کے امتحانات چل رہے تھے اور میسور میڈیکل کالج کے امتحان ہال کے سامنے کا میدان اسٹودنڈس سے بھرا ہوا تھا اور ہم بھی ایک طرف بیٹھ کر اپنی اپنی کتابیں کھول کر پڑھ رہے تھے کہ امتحان دوپہر دو بجے شروع ہونا تھا اور اور تقریبا" ایک آدھ گھنٹا باقی تھا.. کہ اچانک ایک عجیب سی بے سری سی آواز گونجنے لگی، جسکی طرف سب متوجہ ہوئے اور میں نے بھی اپنا سر اوپر اٹھایا اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ کیسی آواز ہے، تو چند ہی لمحوں میں یہ سمجھ آگئی کہ یہ قریب کی کسی مسجد سے اذان کی آواز آرہی تھی،
مگر اتنی خوبصورت اذان کو کوئی اتنی بے رخی سے دے رہا تھا کہ میرے ساتھ پڑھنے والی ہندو لڑکیاں اپنی ہنسی روک نہ پائیں اور دوسرے غیر مسلم لڑکے بهی دبے دبے انداز میں اپنی مسکراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کررہے تھے. پهر سب میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے، کیونکہ میں اپنی کلاس کا واحد مسلمان لڑکا تھا اور وہ بھی ایسا کہ کبھی بھی کوئی بھی موقع ان غیر مسلموں کو اسلام کی خوبیاں بتانے کا نہیں چھوڑتا تھا، مگر اس وقت میری خود کی حالت عجیب سی تھی اور اس اذان کے ساتھ ہونے والے مذاق اور زیادتی سے خود شرمندہ تھا، اور سننے کے باوجود بهی انجان بننے کی کوشش کررہا تھا، مگر ایک ہندو لڑکی نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے آخر پوچھ ہی لیا، کہ یہ کیوں ایسی آوازیں نکال رہے ہیں اور یہ ایسا موقع تھا جسکی وضاحت کرنے کے لئیے میرے پاس الفاظ نہیں تھے. میں نے بس یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ it's a call for prayer , یہ نماز کے لیئے بلاوا ہے. مگر اس کیفیت کا بوجھ مجھے فائنل یگسام کے بوجھ سے زیادہ محسوس ہورہا تھا.
میری نگاہیں تو کتاب پر تھی مگر میں سوچوں کی کسی اور ہی دنیا میں گم تھا، بہت سارے سوال دماغ میں آٹھ رہے تھے، کیا غیر مسلموں نے اذان کا مذاق اڑایا ہے یا ہم نے خود اذان کا مذاق بنایا ہے...؟؟؟
مگر مجھے یہ بات طے کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ اذان کا مذاق ہم مسلمانوں نے خود بنایا ہے، کیونکہ وہاں جتنے بھی میرے کلاس میٹ ہندو لڑکے لڑکیاں تھے ان میں سے کوئی بھی اسلام مخالف نہیں تھے، بلکہ اسلام کے تعلق سے جب بھی انکو بتایا جاتا وہ بڑے احترام سے سننے والے تھے، ہاسٹل میں لڑکے  کبھی کبھی رات کو ہمارے بستر پر آکر بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کو سنتے کبھی وقعات اور سیرت پاک کو احترام سے سنتے تھے.
یہ اسلام کا مذاق اڑانے والوں میں سے نہیں تھے، مگر اذان دینے والے میرے اپنے مسلمان بھائی نے اذان کا مذاق بنادیا تھا،
اور اس مذاق کے ذمہ دار وہ ذمہ داران مساجد بھی ہیں جو اپنی مسجد کے لئیے خوبصورت لحن والے اور مجود امام کو تو تلاش کرتے ہیں مگر مؤذن کے عظیم منصب پر سستے بندے کو تلاش کرتے ہیں،
کیا الفاظ کی صحیح ادائیگی اور اچھی آواز صرف نماز ہی کے لیئے شرط ہے.....؟؟؟؟
کیا اذان جیسے عظیم عمل کے لیئے کوئی تجوید اور الفاظ کی صحیح ادائیگی اور خوش لحنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے،؟؟؟؟
جب اذان دعوت التامہ ہے تو کیا اس دعوت میں وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ  کی کچھ آمیزش کی ضرورت نہیں ہے...؟؟؟
ہماری اکثر مساجد میں أسوقت جن لوگوں کو اذان دینے کی عظیم خدمت پر رکھا ہے کیا انہوں نے کبھی اذان دینا سیکھا ہے...؟؟؟
جیسے ہم امام مسجد کا انتخاب انکی صلاحیتوں کو دیکھ کہ کرتے ہیں کیا ایسا کبھی ہم نے مؤذن کا انتخاب کیا ہے. ..؟؟؟
نہیں ہم کبھی مؤذن کو تلاش نہیں کرتے بلکہ ہم اپنی عالیشان مسجد کے لئیے کوئی سستا خادم تلاش کرتے ہیں، جو مسجد کی صاف صفائی کا خیال رکھے اور جھاڑو پوچھا لگایا کرے اور ہاں ساتھ میں اذان بھی دے دے..
ہاں یہ ایک المیہ ہے کہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ اذان کیسی دیتا ہے...
کیا ہماری اذانیں دل کو سرشار کرنے والی ہیں اور روح کو تڑپانے والی ہیں..؟؟؟؟؟
جسکو علامہ اقبال نے کہا تھا.

يہ سحر جو کبھي فردا ہے کبھي ہے امروز
نہيں معلوم کہ ہوتي ہے کہاں سے پيدا
*وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود*
*ہوتي ہے بندہ مومن کي اذاں سے پيدا*

یہ ایک مسلمه حقیقت ہے کہ *آج ہم نے اپنی اذانوں کو روح بلالی سے خالی کر دیا ہے.*
جو اذانیں مومنین کے دلوں کو سرشار نہیں کررہی ہیں، ان سے کیا توقع ہے کہ وہ کفار کے دلوں کو گرمائے گی....؟؟؟
ہم سونو نگم کے کمنٹ کا گلا کیا کریں جبکہ ہم نے خود اذان کے حسین چہرے کو مسخ کیا ہے. .
سونو نیگم کے کمنٹ پر خفا ہونے کے بجائے اپنی اذانوں کو روح بلالی سے مزین کرنے کی فکر کریں.... یہ وقت کا تقاضا ہے. .

*اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے*
*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات.......*