Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

یوپی میں آرٹی ای ایکٹ کے بہانے مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کا دیا جارہا ہے نوٹس

August 10, 2017


جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس اقدام پر بے چینی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے ۔

نئی د ہلی:۱۰؍ اگست
اترپردیش میں آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ء کا حوالہ دے کر سرکاری محکمہ کی جانب سے دینی مدارس کو فوری طور سے بند کرنے کا نوٹس تھمایا جارہا ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چند مدارس کے ذمہ داروں نے جمعیۃ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی سے رابطہ کرکے تعاون کی گزار ش کی۔جمعیۃ علماء ہند کے صد دفتر کو نوٹس کی چند کاپیاں موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق یہ معاملہ بارہ بنکی ضلع کا ہے ، جہاں مدرسہ حفصہ للبنات نندورہ اور مدرسہ سراج العلوم کتوری کلاں کے ذمہ داروں کو بلاک ایجوکیشنل آفسرنے آرٹی ایکٹ باب4کی دفعہ 19-1کا حوالہ دے کر حکم دیا ہے کہ فوری طور سے اپنی درس گاہوں کو بند کریں اور اس کی اطلاع بلاک افسر سندیپ کمار ورما کو دیں ۔ نوٹس میں مذکورہ ایکٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر تسلیم شدہ ادارہ چلاتا ہے تواسے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہو گا ، اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزارروپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے ، مزید عام پبلک سے دھوکہ دہی کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے ۔

ان معاملات کے سامنے آنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے سخت بے چینی کا اظہار کیا ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ آرٹی ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کے باوجود دینی مدارس کو یہ نوٹس جاری کیا جانا ملت اسلامیہ کو محض اضطراب میں ڈالنے کی سازش ہے ،جمعےۃ علماء ہند اسے کامیاب نہیں ہو نے دے گی ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جب2010ء میں یہ ایکٹ نافذ العمل ہو ا تو مختلف طبقات کی جانب سے خدشات ظاہر کئے گئے تھے ، جمعےۃ علماء ہند نے اس سلسلے میں وزیر تعلیم کپل سبل سے ملاقات کی اور مدارس سے متعلق درپیش خدشات کو دور کرنے کی گزارش کی ،نیز ہم نے ۵؍اگست ۲۰۱۰ء کو ا نڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں’’ لازمی عصری تعلیم کا چیلنج کانفرنس ‘‘ منعقد کیا ، جس میں کپل سبل ، سلمان خورشید او رکے رحمن خاں شریک ہوئے ۔ جس کے بعد وزیر تعلیم کپل سبل نے ہمارے مطالبات کی روشنی میں باضابطہ ترمیم کرکے مدارس اور مذہبی تعلیمی اداروں کو مستثنی کردیا جوآرٹی ای امینڈمینٹ ایکٹ 2012 نام سے موجود ہے ،جس کی دفعہ 1 کی شق 5میں صاف لکھا ہے کہ اس قانون کی کوئی بات مدرسوں،ویدک پاٹھ شالاؤں اور بنیادی طور سے مذہبی تعلیم مہیا کرانے والے تعلیمی اداروں پر نافذ نہیں ہوگی ۔

مولانا مدنی نے صاف کیا کہ کوئی شخص یا ادارہ ملک کے قانون اور دستورسے بڑھ کر نہیں ہے ، اس لیے دینی اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا ۔انھوں نے اتردیش کی سرکار کو متوجہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے والے افسران کے خلاف تادبیے کارروائی کرے ۔مولانا مدنی نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ کسی بھی نوٹس پر پریشان نہ ہوں اوراگر کہیں کوئی دشواری پیش آئے تو اپنیعلاقیکی مقامی جمعےۃ یا راست طور سے جمعیۃ علماء ہند کے دفتر سے رابطہ کریں ، جمعیۃ علما ء ہند ہر طرح کا تعاون پیش کرے گی ۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ آرٹی ای ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012ء کی کاپی حاصل کرکے اپنے پاس ضرور رکھیں اور متعلقہ افسران سے اعتماد سے بات کریں 

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH