Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

روہنگیا کے لیے جمعیۃ کی جانب سے ایک ہزار شیلٹر ہوم

December 1, 2017

میانمار کے مظلوم انسانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بنگلہ دیش میں ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم
ڈیرھ کروڑ مالیت کی فوڈ کٹس تقسیم ، پانچ سو ٹوائیلٹ اور سو سے زائد ٹیوب ویل نصب 

 

 

 

نئی دہلی:۲۷؍نومبر
میانمار کے مظلوم ترین انسانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے کوتو پالنگ کوکس بازار( بنگلہ دیش) میں ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم کیے ہیں جہاں بے گھر فیملیاں رہ رہی ہیں،صرف موتو چھورا کیمپ میں جمعیۃ نے 160؍ہوم شیلٹرہوم بنائے ہیں۔جمعےۃ ریلیف ٹیم کے اہل کار مولانا مکنون احمدابن مولانا فرید ا لدین مسعود نے بتایا کہ کھلا میدان ہونے کی وجہ سے لوگ سردیوں میں ٹھٹھر رہے ہیں،یہاں تقریبا آٹھ لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، بہت ہی برا حال ہے ،اس لیے ہم مزید شیلٹر ہوم بنانے کی تیاری کررہے ہیں ۔ واضح ہوکہ جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی سربراہی میں تنظیم کے ایک وفد نے ۲۷؍ستمبر کو کوکس بازار کا دورہ کیا تھا جس کے بعد باضابطہ طور سے جمعیۃ نے مقامی تنظیم اصلاح المسلمین پریشد بنگلہ دیش ودیگر کے اشتراک سے ریلیف آپریشن شروع کیا جو تاحال جاری ہے،جمعےۃ علماء ریلیف کمیٹی نے مشترکہ طور سے اب تک ڈھائی کروڑ مالیت کی فوڈ کٹس تقسیم کی ہیں ، وسیع پیمانے پر پہننے کے کیڑے اور بچوں کے کھانے اور برتن بھی تقسیم کیے گئے ہیں ،علاوہ ازیں پانچ سو ٹوائیلٹ اورواشر روم، ایک سو دس ٹیوب ویل اور پندرہ ڈیپ ٹیوب ویل نصب کیے گئے ہیں ۔

راحت رسانی کے علاوہ دینی و تعلیمی میدان میں بھی جمعیۃ  نے وہاں پیش رفت کی ہے ، اب تک ۴۵؍مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ ۲۰؍مکاتب ، پانچ حفظ کے مدارس اور چھ اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے بڑی تعداد میںیتیم اور تنہا آئے ہوئے بچے داخل ہو رہے ہیں۔کو کس بازار میں جمعےۃ کی طرف سے دو ہفتے تک رہ کر ریلیف کام کرنے والے مولانا حکیم الدین قاسمی اور مولانا قاری احمد عبداللہ نے بتایا کہ ’’میانمار میں قتل عام کے بدترین حادثے سے نہ صرف بستیاں اجڑی ہیں بلکہ سیکڑوں مدارس اور تعلیمی ادارے تباہ و بربادہوگئے، بے شمار طلباء شہید کردیے گئے ، جو بچ کر آئے ہیں ، ان کی تعلیم کا بندوبست بہت ہی ضروری کا م تھا ، اس لیے جمعیۃ  اس میدان میں بھی بڑا کام کررہی ہے۔

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH