Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

مولانا حیات اللہ قاسمی حیات و خدمات




24ربیع الثا نی ۱۴۳۹ ؁ھ مطابق ۱۴جنوری۲۰۱۸ ؁ء کا سورج ملک وقوم خصو صاًاہلیا ن بہر ائچ کے لئے درد وغم کی سسکیا ں، حزن وملال کی خلش ،اضطراب وبے چینی کی جراحتیں،کرب والم کی ٹیسیں بٹو رے ہو ئے طلوع ہوا یعنی مجاھد ابن مجاھد،قو م و ملت کے غم گسار ،اسکی ڈوبتی کشتی کے کھیون ہا ر ،باعزم وبا حوصلہ قائد ،مفکر اور مدبر، اسلام کے مخلص سپاہی ،جا معہ نو رالعلوم کے نگہبان ،جمعیۃالعلما ء اتر پردیش کے سابق صدر ،ہم سب کے مخد وم ومحترم حضرت مولا نا حیات اللہ صا حب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ وقتِ سحر جوا ر رحمت میں مکین ہو گئے ع خدا مغفرت کرے بہت خوب مردتھا-


حضرت مولانا مرحوم کی نماز جنازہ جامع مسجد بہرائچ کے وسیع و عریض صحن میں قائد ملت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند و سابق ممبر پارلیامنٹ و صدر مجلس شوریٰ نور العلوم بہرائچ نے پڑھائی۔مولانا موصوف لا ریب کو ئی فر شتہ یا ما فوق الفطرت دیو ما لا ئی شخصیت نہیں تھے وہ معصو م نہیں تھے انکی عملی اور قومی زندگی کے فلسفہ ،طرزِ فکر ،کا م کے انداز سے اختلاف کی گنجا ئش ہے بشرطیکہ حد ادب میں ہو اور میرے خیا ل میں کو ئی بھی ملی رہبر اور قومی قائدجو مخلص اوردُھنی ،عزم کا پختہ اور عمل کا رسیاہو وہ اس سے مبرا نہیں ہو سکتا اور یہ زندگی کاکوئی قابل مواخذہ اور با عث تشویش نقص بھی نہیں ہے ،سب کی منھ دیکھی کر نا نفا ق کی کھیتی کو اگا تا ہے اور یقین واعتما د کے نور کو بے اعتما دی اور بے یقینی کی بدلی اور دُھند میں چھپا دیتا ہے۔
دنیا ذی استعدا د عا لموں اور کا میا ب منتظمین سے خا لی نہیں ہے لیکن بے لوث خا دمانِ قوم وملت کے فیض ،ان کے کردا ر کے اجا لو ں ان کے عزم وحوصلوں ،انکی اوللعزمیوں ،کوہ پیما ئیوں کے جلا ل ،قوت فیصلہ کی ہنکا ر اور ناخون عقل وتدبیر سے گتھیوں کے قا بل قبول حل کی صلا حیتوں کے حاملین سے تیزی سے خالی ہو تی جا رہی ہے ۔
مولا نا مرحوم انہیں باکما لو ں ،صد رشک جیا لوں ،لا ئق صدافتخار شاھینوں ،چست اورپھر تیلے عقا بوں ،شیر دل ،بہا دروں کی انجمن کے فرد فرید تھے وہ انتہا ئی مضبو ط اعصا ب کے ما لک تھے،وہ مخا لف ما حول ،مسا ئل کی حوصلہ شکن آندھیوں اوربد گما نیوں کی باد سرسر میں کا م کرنے کا ہنر جا نتے بھی تھے اور اسکو برتتے بھی تھے وہ مر دم شنا س وسیع الظرف اور کشا دہ قلب تھے، خورد نوا ز تھے ،کم از کم راقم کا یہی مشا ہدہ ہے۔ 
خوب معلو م ہے کہ بہرا ئچ کے ایک مدرسہ کے ذمہ دا ر جو مولانا مر حو م کے شاگر د ہیں کسی معاملہ کو لیکر وہ مولا نا سے بد مزہ ہو گئے اور استا د و شا گر د کے تعلقات میں خا صی تلخی در آئی لیکن ایک تقریب جسکے منتظم شا گر د صاحب ہی تھے مولا نا کو بھی مدعوکیا گیا تھاگو دعوت سر سری ہی تھی لیکن یہ ہے وہ کر دا ر جو ہما ری زندگیوں سے عنقا ہو تا جا رہا ہے اور جس کی جستجو میں نگاہیں بے نو ر ہو رہی ہیں !مولا نا نے نہ صرف یہ کہ اسٹیج شئرکیا بلکہ اپنے بڑے پن کا بھر پور مظا ہرہ کر تے ہو ئے اپنے ان شا گرد کی سرِ محفل ہمت افزا ئی بھی کی ،دعا ئیں بھی دیں مزید ترقیات کی حسین تمنا ؤں کااظہا ر بھی کیا اور بر ملا یہ بھی کہا کہ ہما ری ان عزیز سے جو شا گرد اور فیض یا فتہ ہیں شکر رنجی ہو گئی تھی ،میں اس جلسہ میں بر سر مجمع ان سے معا فی مانگتاہو ں اور اعلا ن کر تا ہو ں کہ حق پر وہی تھے ،اس جیسا ایک اور واقعہ بہرا ئچ کا میر ے علم میں ہی نہیں میری نگا ہو ں کے سا منے کا ہے یہ مولانا مر حوم کا ہی جگر تھا کہ ان کی دعوتوں کو بھی شرفِ قبولیت بخشا جنہوں نے مولاناکی عظمت کے اعترا ف میں بخل سے ہی کا م نہیں لیا بلکہ روحا نی اذیت اور قلبی تکا لیف کا باعث بنے۔


قومی اور سما جی کا م کی ڈگر بہت کٹھن اور صبر آزما ہے کا م کر نے والا خادمِ دین وملت اپنے قلب وجگر کا جو ہرنچو ڑ دیتا ہے،اپنی علمی اور فنی صلا حیتوں کا قیمہ اور سینے کو آرزؤں کا مدفن بنادیتاہے نہ وقت پر دانا اور نہ پا نی ،نیند بھر سونے کی فر صت نہیں ،گھر کے نونہا لوں کے لئے وقت نہیں وہ اور اسکی سا ری خوشیا ں قوم کی بھلا ئی کی نذر ۔پر ،صلہ میں قوم اسے گالیوں کی سوغات دیتی ہے اسکی عزت وناموس سے مزے لے لے کر کھیلتی ہے آہ ثم آہ !
یوں تو علم وفن ،زہد وورع،اخلاص واحسان ،تاریخ وادب ،انشا ء ،خطا بت ا ورصحا فت سب ہی انمول موتی اور متاعِ حیا ت ہیں لیکن خدمتِ خلق،انسانوں کی راحت رسانی،مظلوموں کی دستگیری ،سما جی ہم آہنگی کی جد و جہد حسن لازوال بھی ہے اور انسانیت کے سر کا تا ج بھی۔
بالیقین مولاناہر دل عزیز قائدبیدا ر مغز ،ذہین اور زیرک رہنما ،مقبول عام دردمندمیرِکاروا ں اور خادمِ دین وملت تھے میں ان کے اسی رخِ روشن کا شیدا ہو ں ،میرا دل ان کی انہیں عظتموں کی تجلی گاہ ہے مولا نا سے میرا تعلق استاذاورشا گر د کا نہیں، نورالعلوم کا فیض یا فتہ اوراحسا ن مندہو ں پرا ئمری گا ؤں سے آکر پڑھا اور عربی کی ابتدائی تعلیم بھی حا صل کی پرمقدر کی با ت علمی استفادہ کی صورت پیدانہ ہو سکی چو نکہ مولا نا میری طا لب علمی کے زما نہ میں وسطی میں تر قی کر گئے تھے اورہم اس مر حلہ سے پہلے ہی ھتوڑا با ندہ چلے آئے تھے لیکن محنت ومجا ہدہ ،اصا بت رائے ،عقل ودا نا ئی ،عزمِ محکم ،ارادہ کی بلندی اور پختگی کی وہ روشن مثا ل تھے جسکا اعتراف نہ کر نا خورشید کی نو رافشا نی کاانکا ر ہے۔


عرصۂ درا ز سے وہ شوگر اور بلیڈپریشر کے مر یض تھے جس نے انکی ہڈیوں کو کھوکھلا بنا دیا تھا ،بینا ئی بھی متائژہو نے لگی تھی ،صدہا اعذا ر پیدا ہو گئے تھے دماغی قوتیں بھی زوال پذیرتھیں یہ سب کچھ تھاپر ان کا چہرہ پر نو ر ،قوی ،جوا نوں جیسا با رعب وجیہ، انکاعزم و حو صلہ شباب سے بھی زیا دہ توا ناں،حیر ت ہو تی کہ عمر کے آخری سا ل کو چھو ڑدیجئے تو وہ اکیلے دور درا زکے سفر پر کیسے روا نہ ہوجا تے !
جا معہ نو ر العلوم بہر ائچ جس کے با نی و مؤسس حضرت مولا نا محفوظ الر حمن صا حب نا می ؒ ہیں اور جنکی روحا نیت کی قوس و قزح آج بھی نو ر العلوم کے با م و در پر جلوہ فگن دیکھی جا سکتی ہے لیکن اس کو حسین تاج محل بنا نے اورآسما ن شہرت پرپہچانے کا سہراخود مولا نا موصوف اور ان کے وا لد بزرگوار حضرت مولا نا کلیم اللہ صاحب نوری سا بق کار گذار مہتمم کے سر ہے جن کو ہم لوگ اپنی طا لب علمی میں بھو لے اور سا دے سے پیا ر بھرے لفظ میں ’’مولوی صا حب ‘‘کہا کر تے تھے ،جب تذکر ہ مولوی صا حب مر حوم کا آہی گیا ہے تو جملۂ معترضہ کے طو ر پر ان کی بلندئی اخلا ق کا ایک قصہ سن ہی لیئجے جسکا میں عینی شاہدہو ں اطرا فِ قیصر گنج کا ہما را در سی سا تھی کسی وجہ سے درمیا ن سا ل نور العلوم سے بھا گ کر جا معہ عربیہ ھتو ڑا آگیا اس بد نصیب سا تھی نے مولوی صا حب مر حوم کو ایسی مغلظا ت پوسٹ کا رڈ پرلکھ کر ارسا ل کر دیں جن کو سو چ کر آج بھی کلیجہ کا نپ جا تا ہے اسنے وہ کا رڈدکھا یا تھا،لا کھ سمجھا نے کے با وجود وہ اپنے فیصلہ سے باز نہیں آیا حالا نکہ وہ مولوی صا حب مرحوم کے زیر تر بیت بھی رہ چکا تھا اورتلمذکی نسبت بھی رکھتاتھا خدا معلوم کیوں وہ جذبا تی اور مشتعل ہو گیا تھا خیر اس کا پو سٹ کا رڈمولوی صا حب مر حوم کے لئے اذیت رساں ہو ا لیکن قربا ن !مولوی صا حب کے حلم ، عفو ودر گذر اور جوا ں مر دی پر، موصوف مر حوم نے جو ابی کا رڈبھیجا جس میں درج تھا :تم نے مجھے جن القا ب سے یا د کیا ہے میں تو اس قابل بھی نہ تھا مجھے نہیں یا د پڑتا کہ زندگی میں مجھ سے کو ئی ایسی نیکی ہو ئی ہو جو روز محشر سہا را بنے لیکن مجھے اللہ تعالی کی کر یم ذات سے امید ہے کہ وہ مجھ جیسے گنہگا ر کو تم طا لب علموں کی خاک پِا اور جو تیوں کی گر د کی برکت سے معا ف کر دیگا ؂ گئے عشا ق وعدۂ فر دالیکر 239اب ڈھو نڈ انہیں چرا غِ رخِ زیبا لیکر یہ ہیں حسن اخلا ق کے وہ روشن منا رے جن کے گرد خوگرِ انسا نیت کے پتنگے چکر لگا کر زندگی کی معراج پا تے تھے۔
میں نے اپنے درسی رفیق کو بد نصیب اسلئے کہا کہ وہ جا نے کیو ں اپناتعلیمی سفر جا ری نہ رکھ سکا سبب کے طو ر پر رمضا ن کی چھٹی میں اکسیڈینٹ ہو گیا اور روبہ صحت ہو جا نے کے بعد بھی وہ حوصلہ بر قرا ر نہ رکھ سکا میرا خیا ل یہی ہے کہ مولوی صا حب مر حو م کا حلم بے پنا ہ خدا کی پکڑ کو دعوت دے گیا سچ ہے جو اللہ کے مخلص بند وں سے الجھتا ہے اللہ اس کا موا خذہ ضرور فر ما تے ہیں ،آج کے ا س فتنہ فسا د کے دور میں جہا ں ملکی سلا میت خطر ے میں ہے،جمہو ریت تما شا بنی ہو ئی ہے، آدمیت کی آبر و تار تار ہے ،فرقہ پرستی کی آگ با غِ آدم کو جلاکر را کھ بنادینے کے درپہ ہے ،قومی مسا ئل سد را ہ بنے ہو ئے ہیں ایسے میں ہمیں مولانا حیا ت اللہ قاسمی صا حب مر حو م کی یا د ہمیشہ ستا ئیگی ملت کو اس نا زک گھڑی میں ان کی مدبرانہ سلجھی ہو ئی قیا دت کی زیا دہ ضر ورت تھی وہ بہترین منتظم تھے نو رالعلوم کا نظم و نسق اور طلبہ کا تر بیتی نظا م اِسکی زندہ مثا ل ہے ؂
بنا کر دند خوش رسمے بخا ک وخو ن غلطیدن 
خدا رحمت کند ایں عا شقا نِ پا ک طینت را


مولانا مو صف کی پیدا ئش یکم مئی ۱۹۵۳ ؁ء میں ہو ئی نورالعلو م بہرا ئچ اور اس کے نا مور اسا تذہ کے زیر سا یہ پر وا ن چڑھے میری معلومات کی حد تک امدادالعلوم زید پور، با رہ بنکی سے از۱۹۶۷ ؁ء تا۱۹۶۸ ؁ء فیضا ب ہو ئے ،مولا نا رشید الدین صا حب حمیدیؒ کے دا من تربیت سے بھی وا بستہ رہے ،از۱۹۶۹ ؁ء تا۱۹۷۳ ؁ء دا رالعلوم دیو بند کے علمی ،فکری اور تحریکی ما حول نے شخصیت کو چا ر چا ند لگا ئے اور فدا ئے ملت حضرت مولا نا اسعد صاحب مدنی مرحوم کی عبقری شخصیت سے وا بستگی نے قائدا نہ بال و پر فرا ہم کئے وہ جمعیۃ العلما ء اتر پر دیش کے چا ر میقات تک صدر رہے جسکی تفصیل یوں ہے نا ظم جمعیۃالعلما ء اترپردیش از ۱۹۸۲ ؁ء تا۱۹۹۷ ؁ء نا ئب صدر از ۱۹۹۷ ؁ء تا ۲۰۰۱ ؁ء صدر یکم جولا ئی۲۰۰۱ ؁ء تاستمبر ۲۰۱۶ ؁ء تقریباًپندرہ سال منصب صد۱رت اتر پر دیش کو زینت بخشا۔ 
جا معہ نورالعلوم بہرا ئچ میں بحیثیت مدرس مئی ۱۹۷۵ ؁ء میں تقرر عمل میں آیا ۱۹۸۹ ؁ء میں عہدۂ نیابتِ اہتما م پر تر قی دی گئی ،جون ۲۰۰۰ ؁ء میں شوریٰ نے کا ر گذار مہتمم طئے کیا اور ما رچ ۲۰۰۸ ؁ء میں بالاستقلال اہتمام کی مکمل ذمہ دا ری سے سر فرا ز کئے گئے ،مرحوم نے تقریباً۴۲سا ل نورالعلوم کی زلفوں کو سنوا را ،مر حوم کا دور اہتمام نو رالعلوم کا تعمیر وترقی ،طلبہ و اسا تذہ کے اضافے کے لحا ظ سے سنہرا اور زریں با ب ہے مجھ ایسے کو ر چشموں کو ان کی عوا می مقبولیت اور محبوبیت کاکچھ اند ازہ اُس ٹھا ٹھیں ما رتے ہو ئے انسا نی سیلا ب سے ہو ا جو مر حوم کی آخری دید کے لئے نور العلوم امنڈآیا تھاوہ شا ید مرحوم کے جنا زہ کو کندھا دیکر اپنے رنجور دلوں کی تسکین کر نا چاہتے تھے۔ 


مر حوم کے انتقال کے سا تھ محنت ،مجاہدہ ،جفا کشی ،عوامی خدمت ،عاقبت بینی جواں مردی اورجا ں سپاری کے ایک عہدکا خاتمہ ہو گیا، مرحوم کی نر ینہ اولاد میں مولوی حافظ سعید اختر صاحب سب سے بڑے ہیں جو ما شا ء اللہ اپنے نا مور با پ اور دادا کی طرح با حوصلہ اور معاون مہتمم نورالعلوم ہیں منجھلے صا حبزادے مولانا حا فظ صدیق اختر ہیں جو نورالعلوم کے شعبۂ حفظ میں خد مت کر رہے ہیں تیسرے صا حبزادے دیوبند میں موقوف علیہ کے متعلم ہیں اللہ تعالی مر حو م کو کر وٹ کروٹ سکو ن نصیب کرے اہل تعلق اور پسما ند گا ن کو صبر جمیل عطا فر ما ئے ،آمین ؂
آسما ں اسکی لحد پر شبنم افشا نی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبا نی کرے 

( مضمون نگار جامعہ عربیہ ہتھوڑا باندہ کے استاذحدیث و ناظم تعلیمات ہیں ) 

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH