Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

چودھویں فقہی اجتماع ادارہ مباحث فقہیہ کی مکمل تجاویز یہاں پڑھیں

February 23, 2018

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
تجاویز
چودہواں فقہی اجتماع زیر ِ اہتمام ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند 
 منعقدہ 6،5،4، جمادی الاخری 1439ھ ، بمقام :جامعہ علوم القرآن جمبوسر۔گجرات


تجویز(۱) بابت :حرمت مصاہرت سے متعلق چند اہم پہلو
     ادارۃ المباحث الفقہیہ ْجمعیۃ علماء ہندکے چودہویں فقہی اجتماع میںحرمت ِ مصاہرت کے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر بحث و تمحیص کے بعد درج ِ ذیل امور طے کئے گئے۔
    (۱) حرمت مصاہرت کے مسائل بہت ہی حساس اور نازک ہیں اور عام طورپر لوگ ان سے واقف نہیںہیں؛ اس لئے یہ اجتماع اہل علم سے درخواست کرتا ہے کہ ان مسائل کو عامۃ الناس کے درمیان بیان کرکے لوگوں کو اس کی حساسیت اور نزاکت سے واقف کراتے رہیں۔
    (۲) شرکاء ِ اجتماع کا اس پر اتفاق ہے کہ جس طرح حرمت مصاہرت نکاح اور جائز ہمبستری سے ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح زناسے بھی حرمت مؤبدہ کا ثبوت ہو جاتاہے۔
    (۳)’’مس بالشہوۃاورتقبیل ‘‘سے حسب شرائط حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، اور فقہاء ِ احناف کا یہ مسئلہ مضبوط دلائل پر مبنی ہے۔
    (۴)اس کے باوجود اگر’’مس بالشہوۃ‘‘ میں کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس میں حرمت مصاہرت کا فتوی دینے کی صورت میں غیر معمولی حرج و مشقت پیش آ رہی ہے تو اس وقت مفتی کے لیے اپنی صواب دید کے متعلق مذہب ِ غیر پر عمل کرنے کا مشورہ دینے کی گنجائش ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں دونوں طرح کی رائیں آئیں،لیکن کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
    (۵)چہرے پربوسہ دینے سے عموماً شہوت پیدا ہو نے کا خطرہ ہوتا ہے ، اس لئے اس سے  احتراز لازم ہے؛البتہ اگر کسی عرف یا معاشرہ میں بعض خاص مواقع پر باپ بیٹی یا ماں بیٹے یا دیگر محارم کے درمیان چہرہ وغیرہ پر بوسہ لینے دینے کا رواج ہو تو اس سے حرمت مصاہرت کا حکم اس وقت تک ثابت نہ ہوگا، جب تک کہ جانبین میں سے کسی جانب شہوت پیدا ہونے کا اقرار یا قرینہ نہ پایا جائے۔
    نوٹ :مولاناکلیم اللہ عمری مدنی صاحب، چوں کہ مسلکاً حنفی نہیں ہیں، اس لیے انہوں نے شق ۲-۳ سے اتفاق نہیں کیا۔

 

تجویز(۲) بابت : مصنوعی طریقۂ تولید کی چند شکلیں اور ان میں ثبوت نسب کا حکم
     موجودہ دور میں میڈیکل سائنس کے ارتقاء کی وجہ سے جو نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں،ان میں : مصنوعی طریقۂ تولید اور اس سے پیدا شدہ بچوں کا نسب کا مسئلہ بھی ہے۔
    بلا شبہ اولاد اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے اور اس کے حصول کے جائز اسباب اختیارکرنا شریعت میںمطلوب ہے لیکن اس مقصد کے لیے ایسے ذرائع اختیار کرنا ہر گز درست نہیں جو خلاق ِ دو جہاں کے مقرر کردہ فطری نظام سے مختلف ہوں؛کیوں کی ان کی وجہ سے رشتوں میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں،بالخصوص بے دین معاشرہ میں’’سروگیٹ مدر ‘‘ (کرائے کی کوکھ) کا رواج کھلی ہوئی بے حیائی اور فطری نظام سے بغاوت کے مرادف ہے، جس کی اسلام بلکہ کوئی بھی مہذب معاشرہ ہرگز تائید نہیں کر سکتا، درحقیقت یہ صنف ِنازک کی بدترین توہین ہے۔کیوں کہ اس عمل سے عورت محض ایک بچہ پیدا کرنے والی مشین کی حیثیت بن کر رہ جاتی ہے۔ 
    یہ بات بھی کسی پر مخفی نہیں ہے کہ اسلام میں نسب کی بڑی اہمیت ہے، اور اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح ہدایات موجودہیں،اور معاملہ صرف نسب تک محدود نہیں ہے، بلکہ نسب کے ساتھ حق پرورش ، نان و نفقہ ، حرمت ِازدواج ، حرمت ِمصاہرت اور میراث وغیرہ کے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔
    اسلام اگر چہ اصولی طورپر ’’مصنوعی طریقۂ تولید‘‘ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتااور اس سلسلہ میں اپنائے جانے والے بہت سے طریقے بلا شبہ ناجائز و حرام ہیں،تاہم اگر کوئی ان طریقوں کو اپنالے اور اولاد وجود میں آ جائے تو ثبوت نسب کے بارے میں درج ذیل احکام ہوں گے:
    (۱) اگر زوجین اپنے مادہ ٔ تولید کو مصنوعی ٹیوب میں رکھوائیں یا خود رکھیں اور بالفرض ٹیوب ہی میں بچے کی نشو و نما ہو اوراسی سے پیدائش ہوتو بچے کا نسب انہی زوجین سے ثابت ہوگا۔
    (۲)اگر میاں بیوی کے اجزائے منویہ کو خارجی ٹیوب میں رکھ کر افزائش کی جائے اور کچھ وقت کے بعداسے بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے اور وہیں سے بچہ کی پیدائش ہو تو اس کا نسب بھی زوجین سے ثابت ہوگا۔
    (۳) اگر کوئی شخص اپنے نطفہ اور کسی اجنبی عورت کے بیضہ کو ٹیوب میں بار آور کرائے اور پھر اسے ایک مدت کے بعد اپنی بیوی کے رحم میں منتقل کرادے اور بیوی کے رحم ہی سے بچے کی ولادت ہو تو یہ عمل شرعاًناجائز وحرام ہوگا۔ لیکن جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نسب زوجین سے ثابت ہوگااور جس عورت کے بیضے استعمال کئے گئے ہیں اس سے نسب کا تعلق نہ ہوگا،البتہ اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی۔
    (۴) اگر شوہر کی منی قابل تولید نہ ہویعنی اس سے استقرار حمل نہ ہو سکے اور وہ یہ تدبیر کرے کہ کسی دوسرے شخص کے مادہ منویہ کو اپنی بیوی کے بیضوں سے ملا کر خارجی ٹیوب میں بارآور کرائے اور پھر اپنی بیوی کے رحم میں منتقل کرادے اور بیوی کے رحم سے ہی بچہ کی پیدائش ہو تو یہ طریقہ بھی حرام ہے لیکن چوں کہ بچہ کی پیدائش منکوحہ بیوی کے رحم سے ہوئی ہے اس لئے اس بچے کانسب بھی انہی میاں بیوی سے ثابت ہوگا،اور جس غیرمرد کا مادہ شامل کیا گیا ہے اس سے نسب ثابت نہیں ہوگا، البتہ اس سے حسب ضابطہ حرمت مصاہرت ثابت ہوگی۔
    (۵)اگر بیوی کا رحم حمل کا متحمل نہ ہو اور یہ شکل اپنائی جائے کہ میاں بیوی کا مادہ ٔ منویہ ٹیوب میں بارآور کراکے کسی اجنبی عورت کے رحم میںپہنچا دیا جائے اور اس عورت سے بچے کی پیدائش ہو تو یہ طریقہ بھی یقینا کھلی بے حیائی اور حرام ہے، لیکن بچے کا نسب اسی عورت سے ثابت ہوگا جس کے بطن سے پیدائش ہوئی ہے، اوراگر وہ عورت منکوحہ ہو تو اس کے شوہر سے بھی نسب ثابت ہوگااور جن زوجین کے نطفوں سے افزائش ہوئی ہے ان سے نسب ثابت نہ ہوگا بلکہ صرف حرمت مصاہرت ثابت ہوگی۔
    (۶)اگر شوہر کسی اجنبی مرد اور اجنبی عورت کے نطفوں کو بارآور کراکے اپنی منکوحہ کے رحم میں منتقل کرائے اور اسی سے ولادت ہو تو ایسا کرنا اگر چہ حرام ہے لیکن بچے کا نسب زوجین سے ہی ثابت ہوگااور اجنبی مرد و عورت جن کا مادہ استعمال کیا گیا ہے ان سے صرف حرمت ِ مصاہرت ثابت ہوگی۔
    (۷) اگر کوئی شخص اپنی دو بیویوں میں سے ایک بیوی کے بیضہ کو اپنے نطفہ کے ساتھ ملاکر خارج میں بارآور کرا کے دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کرائے اور اسی سے بچہ کی پیدائش ہو تو یہ عمل قطعا ناجائز اور سراسربے حیائی ہے اور اس صورت میں بچہ کا نسب تو باپ سے ثابت ہوگا ہی لیکن حقیقی ماں وہی کہلائے گی جس کے بطن سے بچہ کی پیدائش ہوئی اور جس بیوی کا بیضہ شوہر کے نطفہ کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے صرف حرمت ِ مصاہرت کا حکم متعلق ہوگا۔

 

تجویز (۳ )بابت: طویل المیعاد قرض میں زکوۃ کا حکم
    ’’ ادارۃ المباحث الفقہیہ، جمعیۃ علماء ہند‘‘کا یہ فقہی اجتماع امت ِمسلمہ سے اپیل کرتا ہے کہ : سودی قرض لینے سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔
    تاہم اگر کسی شخص نے قانونی مجبوری یا ضرورت کی بنا پر سرکاری یا غیر سرکاری اداروں (بینک وغیرہ) سے تجارتی طویل المیعاد قرض لے لیا ہے تو اس صورت میں صرف اسی سال کی واجب الاداء قسط کو منہا کر کے باقی مال کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔
    نوٹ :اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے درج ذیل حضرات نے یہ رائے دی ہے کہ : قرض کی پوری رقم منہا کرکے زکوۃادا جائے گی۔
(۱) مفتی محمد لقمان صاحب۔ جامع الہدی مراداباد۔(۲) مفتی فخر عالم نعمانی صاحب۔بیگو سرائے، بہار۔  

   (۳) مفتی اشتیاق احمد ۔دارالعلوم دیوبند۔ (۴) مفتی مزمل بدایونی ۔دارالعلوم دیوبند۔

تجویز(۴) بابت : مریض کی جان بچانے کے لیے خون دینے کے واسطے روزہ توڑنا۔
     ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہندکایہ فقہی اجتماع اولاً اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہے کہ انسانی جان کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرنا ہر مسلمان کا انسانی و اخلاقی فریضہ ہے۔
    اسی تناظر میںیہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی مریض کی جان بچانے کے لئے خون دینے کے لیے  رمضان کا روزہ توڑنا ناگزیر ہو جائے یعنی اس کے علاوہ مریض کی جان بچانے کی کوئی اور متبادل شکل نہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ توڑنے سے صرف قضاء لازم ہوگی، کفارہ واجب نہ ہوگا۔ 
    نوٹ : حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی دامت برکاتہم کی رائے یہ ہے کہ اس صورت میں بھی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH