Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

پٹن میں جمعیۃ علماء شمالی گجرات کا اجلاس عام  ا

May 7, 2018

اس ملک سے مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کو مٹانے والے مٹ جائیں گے (ان شاء اللہ )
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا تاریخی خطاب

 

 

 

 دہلی ۔7؍مئی 2018
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمو دمدنی نے مسلم اقلیت کے خلاف نفرت اور گھٹن کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان کوئی بتاشہ نہیں ہیں کہ پانی پڑنے سے پگھل جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ جب تک دنیا قائم ہے مسلمانوں کے سجدے سے یہ ملک آباد رہے گا اور مسلمانوں کے دشمن اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے (ان شاء اللہ)۔مولانا مدنی نے یہ باتیں جمعیۃ علماء شمالی گجرات کے زیر اہتمام سیدھ پور پٹن میں منعقد تحفظ ملک وملت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں جہاں دو لاکھ کا مجمع موجود تھا۔مولانامدنی نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں اس سے پہلے بھی آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اور ہم بہتر طریقے سے نکل کر آئے ہیں ،ہم تب نہیں گھبرائے ہم جب ہم سے چاہت اور محبت کا دعوی کرنے والے ہمارے اوپر جنازہ پڑھ کر پاکستان چلے گئے، وہ یہاں سے کہہ کر گئے تھے کہ تم مرتد بنالیے جاؤگے، لیکن آج ہم روحانی ومادی دونوں اعتبار سے ان سے بہتر ہیں، ہم تعداد میں بھی ان سے زیادہ اور ایمانی حمیت میں بھی ان سے آگے ہیں، آج الحمدللہ ہمارے ملک میں دین کے بڑے بڑے مراکز قائم ہیں، آج پوری دنیا دین کی صحیح کی رہ نمائی کے لیے ہم سے رجوع کرتی ہے۔

مولانا مدنی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ برے حالات سے ہرگز مایوس نہ ہوں کیوں کہ ایک مومن کے لیے آزمائش اللہ رب العزت نے ضروری بنادیا ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ آزمائشوں میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں اینٹ کا جوا ب پتھر سے دینے کی ضرورت ہے یا ہمارے کے لیے پیغمبر اسلام کی زندگی میں کوئی اور رہ نمائی ہے؟ اگر ہم سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائشوں میں صبر سے کام لیا اور فتح اور سربلندی کے وقت عفو و درگزر کا نمونہ پیش کیا۔آج کے موجودہ حالات میں ہمیں اسی راہ عمل کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ آگ کوآگ سے نہیں بجھایا جاسکتا اور نہ نفرت کو نفرت سے مٹایا جاسکتا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں ردعمل کی نہیں بلکہ طویل راہ عمل کی ضرورت ہے۔ آج ہم دشمنوں کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں، ہمارا دشمن یہ پلان کرتا ہے کہ ہم یہ بولیں گے تو مسلمان اس کا جواب یہ دیں گے اور پھر عوام میں مسلمانوں کے جواب کو پھیلائیں گے تا کہ عام ہندو مسلمانوں سے دورہو جائیں۔ انھوں نے کہا کہ عمل اور رد عمل کی سیاست کا سارا معاملہ ٹھیکیداری پر مبنی ہے، جو لوگ بولتے ہیں ان کی بھی ٹھیکیداری ہے اور جو لوگ اس کا جواب دیتے ہیں ان کی بھی ٹھیکیداری ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے دشمن نقشہ بناتے ہیں اور مسلمانوں کے نام نہاد قائدین اس میں رنگ بھرنے کا کام کرتے ہیں۔مولانا مدنی نے جلسہ میں نعرہ تکبیر بلندکرنے والوں کو روکتے ہوئے کہا کہ یہ نعرہ بند کیا جائے،یہ جذبانی نعرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ایکشن پلان سے تہی دامن ہیں، ہمیں نعروں کی نہیں ارادوں کی ضرورت ہے۔مولانا مدنی نے اپنے خطاب میں مکاتب کی اہمیت و ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سما ج میں بے دینی سے نت نئی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، انھوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ جسمانی اور ذہنی قابلیت پیدا کریں اورخود کو ملک اور قوم کے لیے مفید بنائیں۔

 

 

اس اجلاس میں مولانا محمود مدنی کے علاوہ مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مولانا عبدالقدوس پالن پور ی نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات، مولانا ابراہیم تاراپوری، مولانا عرفان، سنت شری مہاراج چندر پرکاش جی،سنت شری مہاراج سیتارام باپوآلوی،مولانا خادم لا ل پوری صدر جمعیۃ علماء سانبر کانٹھا، مولانا یسین کاکوسی، مولانا ارشد، مولانا یحی کھرسانہ،مولانا محمد میاں،مولانا مستقیم ماہی،مولانا اکبر، مولانا عبدالرحمن، مولانا محمود رادھن پور،مولانا علاء الدین مظاہری، مولانا محمد عمران نے بھی خطاب کیے اور تجاویز پیش کیں۔ مولانا داؤد قاسمی، دولت خاں، مولانا محسن، مولانا محمد حنیف بھلونی نے تحریک صدار ت پیش کی۔یہ اجلاس مولانا عبدالقدوس پالن پور ی کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تحفظ ملک وملت کے عنوان سے کئی اہم تجاویز پیش کی گئیں، جن میں خاص طور سے دلت اورمسلم اتحاد، مسلمانوں کے لیے ریزرویشن، مسلمانوں کے تعلیمی و اقتصادی حالات، فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے قانون سازی،خواتین کے حقوق، قومی یک جہتی سے متعلق تجاویز کافی اہم ہیں۔
اس اجلاس کا آغاز کا قاری احمد کی تلاوت سے ہوا جب کہ ترانہ اور نظم قاری احمد عبداللہ رسول پوری نے پیش کیا۔ اجلاس کے ناظم عتیق الرحمن قریشی سکریٹری جمعیۃ علماء شمالی گجرات اور مولانا ابوالحسن پالن پوری آرگنائز ر جمعیۃ علماء ہند نے بتایا کہ اجلاس بہت ہی کامیاب رہا اوراس میں مسلمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی شریک ہوئے۔احمد آباد سے حاجی فیصل، حاجی فہیم ، مولانا مفتی عارف کالوپوراس کے علاوہ مختلف علاقو ں سے جابر بھائی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا قمرالدین حسن پور، عثمان بھائی مجاور، الیاس بھائی وغیرہ بھی شریک ہوئے ۔

 

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH