Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

رمضا ن المبارک :شہر مواساۃ ، شہر مواخاۃ

 

 از ( مولانا ) محمود اسعد مدنی 
جنرل سکریٹری جمعیۃ علما ء ہند 


رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے ، جس کی فضیلتوں اور برکتوں کا شمار نہیں،یہ واحد مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں دو مناسبتوں سے آیا ہے ۔ اول یہ کہ یہی وہ مقدس ماہ ہے جس میں قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور دوسری مناسبت یہ ہے کہ اس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ، چنانچہ سورہ بقرۃ کی آیت نمبر ۱۸۵میں ان دونوں مناسبتوں کا ایک ساتھ ذکر ہے۔


حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاایک خطبہ مروی ہے جس میں ماہ رمضان کی حقیقت کو نہایت ہی جامع طریقہ سے پیش کیا گیا ہے ۔اس حدیث میں رمضان کی پانچ اہم صفا ت کا تذکرہ ہے:(۱) شہر عظیم: عظمتوں کا والامہینہ (۲) شہر مبارک : برکتوں والا مہینہ (۳)شہر صبر:ہمت و استقلال سے نیکیوں پر اور جرات و حوصلے سے گناہوں کے خلاف ڈٹے رہنے کا مہینہ (۴)شہرمواساۃ:ایسا مہینہ جس میں لازم آتاہے کہ ہم بنی نوع انسان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہمدردی ، غم گساری اور دل سوزی کے ساتھ پیش آئیں (۵) اولہ رحمۃ ، اوسطہ مغفرۃو آخرہ عتق من النار‘‘ یعنی ایسا مہینہ جس میں کبھی رحمت عالم انسانیت کو محیط ہوتی ہے تو کبھی مغفرت کے سائبان تان دیے جاتے ہیں اور کبھی عاصی کو نار جہنم سے آزادی کے پروانے عطا کیے جاتے ہیں ۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی کی روایت میں رمضان المبارک کے تعلق سے اس امت کے لیے پانچ خصوصیات کا تذکرہ ہے (۱) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کو مشک سے زیادہ پسند ہے (۲)ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعائیں کرتی ہیں (۳) ہرروز جنت ان کے لیے سجائی جاتی ہے (۴) اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں (۵) رمضان المبارک کی آخری رات میں روزہ دار کی مغفرت کردی جاتی ہے ( ترمذی )
لیکن ان انعامات و اکرام کا کامل ظہور تبھی ہو گا جب کہ بندہ کی تمام تر توجہ اللہ کی طرف مبذول ہو اور بندہ اللہ سے نیکی کی تمنا کرے ۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ من صام رمضان ایمانا واحتسا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ و من قام رمضان ایماناو احتساباغفرلہ ما تقدم من ذنبہ۔یعنی (جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کا روزہ رکھے اور رمضان المبارک میں قیام لیل کرے اس کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں )حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری اور علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں’’ ایمانا‘‘ کا مطلب لکھا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو اور ساتھ ہی روزے کی فرضیت اور اللہ کی طرف سے اس کے اجر پر بھی ایمان ہو اور ’’احتسابا‘‘ کا مطلب ہے کہ اللہ رب العلمین سے خالص ثواب اور اجر کے لیے کام کررہا ہو ، اس کے عمل میں ریاکاری اور کسی غیر کی جانب سے خوف وطمع نہ ہو ۔ایک حدیث قدسی نے اس منظرنامے کو مزید صاف کردیا ہے جس میں ارشاد باری ہے کہ ’’ الصیام لی وانا اجزی بہ ‘‘ یعنی روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزا دیتاہو ں ( بخاری)


ان دو احادیث سے جہاں روزہ کے دوسرے اعمال پر شرف و تخصص کا اظہار ہو تاہے وہیں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقصد روزہ ’’ تقوی‘‘ اور انعام باری کے حصول کے لیے ایمان و اخلاص اور نیت کی درستگی کتنی اہمیت کی حامل ہے ۔شدید گرمی کی وجہ سے جب حلق میں کانٹے لگ رہے ہوں اور زبان پیاس سے خشک ہو اور فریج میں ٹھنڈا پانی موجود ہے اور تنہائی بھی ہے او رکوئی دیکھنے والا نہیں ہے ، اس کے باوجود بندہ اس لیے پانی نہیں پی رہا ہے کیو ں کہ اس کے دل میں اللہ کے حضور کا احساس اور جواب دہی کا ڈر ہے ، اور جب یہ احساس پیدا ہوجائے تو اسی کا نام تقوی ہے ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے تقوی کے معنی یہ بتائے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی عظمت کے استحضِار سے گناہوں سے بچنا ، یعنی یہ سوچ کرکے میں اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اسی کا نام تقوی ہے جیسا کہ ارشادہے’’ و اما من خاف مقام ربہ و نھی النفس عن الہوی ‘‘ یعنی جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو نا ہے اور کھڑا ہونا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو ہوائے نفس اور خواہشات سے روکتا ہے(سورۃ النازعات)۔


اسی طرح روزہ میں اخلاص یعنی خالص اللہ کے لیے ہونا بہت ہی بنیادی عنصر ہے ۔حضرت شیخ جلال الدین رحمہ اللہ نے مثنوی شریف میں سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مشہور واقعہ سے اخلاص کی بہت ہی عمدہ تشریح کی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک بار آپ نے ایک کافر کو مقابلے کے وقت زیر کردیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے تو ناگاہ اس کافرنے آپ کے چہرہ مبارک پر تھوک دیا ، آپ نے فورا تلوار میان میں لے لیا اور اس سے الگ ہوگئے ، اس کافر کے سوال پر کہ آپ کیوں الگ ہو ئے جب کہ اب آتش غضب مزید بھڑکنا چاہیے ، انھوں نے جواب دیا کہ میں تجھے اللہ کی رضا کے لیے قتل کرنا چاہتا تھا ، جب تو نے میرے چہرے پر تھوک دیا، اب اگر میں تجھے قتل کرتا تو یہ فعل میرے نفس کے غضب اور غصے سے ہوتا ۔اس واقعہ کو پیش کرتے ہوئے مولائے روم فرماتے ہیں ’’ ازعلی آموز اخلاص عمل ‘‘ سیدنا علی کے اس واقعہ سے اخلاص کا بہترین سبق ملتاہے ، انسان جو کام بھی کرے اگر نیت درست کرلے تو دنیا بھی دین بن جاتی ہے اور اگر نیت غلط ہو تو اعلی درجے کے اعمال بھی رائیگاں ہو جاتے ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے کہ عالم ، غنی اور شہید قیامت کے روز اللہ کی بارگاہ میں مخص اس وجہ سے قابل عتاب ہو ں گے کہ ان کی نیت فاسد تھی۔ احادیث کریمہ میں ،’’ انما الاعمال بالنیات و انما لکل امری مما نوی ‘( بخْاری) کے ذریعہ نیت پر اعما ل کی تاثیر کا مدار بتایا گیا ہے۔ ایک روایت میں تو نیت کو عمل سے بھی اعلی کہا گیا ہے چنانچہ معجم طبرانی میں حضرت سہل بن سعد سے مروی ہے کہ’’ نےۃ المومن خیر من العمل‘‘حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ ا للہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے چھوٹے اعمال نیت کی وجہ سے بڑے ہو جاتے ہیں ۔


حصول تقوی اور اخلاص کے لیے سہل نسخہ

اپنے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے لیے اللہ والوں اور صلحاء کی صحبت اختیار کرنا آسان نسخہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں اللہ والوں کے یہاں خصوصی مجلس لگتی ہے اور دور دور سے متعلقین و متوسلین ان کی خدمت میں جمع ہو کر فیض حاصل کرتے ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ’’لکل شی معدن ومعدن التقوی قلوب العارفین(رواہ الطبرانی ) اس حدیث کی شیخ جلال الدین رومی رحمہ اللہ نے عارفانہ تشریح کی ہے کہ :


ہم نشینی اہل دل اہل نظر 
می رساند تا خدائے بحر و بر 


اہل اللہ کی صحبت او ر دوستی تجھے خدائے بحرو بر تک پہنچا دے گی یعنی تجھے بھی اللہ والا بنا دے گی ۔اس لیے عارفین اور اللہ والوں کی صحبت میں رمضان المبارک کے لمحات گزارنے سے نہ صرف اہتمام ہوتاہے بلکہ اس کے ذریعہ انسان اخلاص اور تقوی کے مدارج بھی بخوبی طے کرسکتاہے ۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالی رمضان المبارک تک ہمیں پہنچادیں اور اس کے خیر کے وافر حصہ کا حق دار بنادیں ( آمین ) 

 

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH