Contact Us

info@jamiat.org.in

Phone: +91-11 23311455, 23317729, Fax: +91 11 23316173

Address: Jamiat Ulama-i-Hind

No. 1, Bahadur Shah Zafar Marg, New Delhi – 110002 INDIA

Donate Us

JAMIAT ULAMA-I-HIND

A/C No. 430010100148641

Axis Bank Ltd.,  C.R. Park Branch

IFS Code - UTIB0000430

JAMIAT RELIEF FUND

A/C No. 915010008734095

Axis Bank Ltd.  C.R. Park Branch

IFS Code-UTIB0000430

ہم جنسی پر فیصلہ :جب ضمیر ہی نہیں تو’ ضمیر کی آزادی‘ کا مطلب ؟ عظیم اللہ صدیقی

September 10, 2018

ضمیر کی آزادی کے نام پر سپریم کورٹ نے جس طرح ہم جنسی جیسے نسل کش عمل کو فطری اور جا ئز قراردیا ہے ، اس نے مہذب سماج کو بہت ہی مشکل حالت میں ڈا ل دیا ہے ۔سپریم کورٹ کے قانونی بنچ کے وکلاء یقیناًبہت ہی قابل اور لائق شخصیات ہیں ،لیکن وہ عمر کے اس مرحلے کو پہنچ گئے ہیں جہاں والدین، اولا د کی پرورش کی ذمہ داری سے فارغ ہوجاتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ انھوں نے ا س عہد میں اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت کی تھی جب انٹرنیٹ اور سوشل ذرائع ابلاغ کا دور نہیں تھا اور بچے صرف والدین اور اساتذہ کی اچھی فکر اورسو چ کے سایے میں نوجوان ہوتے تھے۔ اب توحالت یہ ہے کہ بچے دنیا بھر کے پیغامات اور لوگوں تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں،ایسے دور میں اولا د کی صحیح تربیت پہلے ہی بہت مشکل تھی، اب جب کہ ہم جنسی جیسی لعنت سماج کا حصہ بن جائے گی اور کبھی انکاری حالت اور کبھی چھپ چھپا کر ہونے والا عمل محلے اور پڑوس تک پہنچ جائے گا اور جب کھلے عام اس طرح کی رغبت پر مبنی فلم ، اشعار وکلام اور مطلوب کو قریب کرنے اور ہم خیال بنانے کے نت نئے حربے اپنانے کی کوشش ہوگی تو سماج اور خاندان کا ٹوٹنا اور جنسی بے راہ روی، ایک عام وبا کی شکل اختیار کرجائے گی ۔مرد کا مرد سے ملنا جلنا ، ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا انسانی ضروریات کے لیے انتہائی ناگزیر ہے ۔مردکا مرد کے ساتھ کارخانے میں رات رات بھر کام کرنا ، سفر کرنا یہ سب ایک فطری ماحول میں ہوتا رہاہے ، مگر اگر اس پر بھی شک و شبہ کے بادل چھاجائیں گے تو مرد کا گھر سے نکلنا بھی ایسے ہی دشوار ہو جائے گا جیسا کہ ہر دور میں عورتو ں کے لیے ہو تا رہا ہے۔پھر اس سے متعلق جرائم کے انسداد ، دونوجوانوں کی رضا مندی کی حدود کے تعین کے لیے کوئی نظام بھی نہیں ہے ، تو جرائم کے انسداد کے لیے کیا طریقے اور حربے اختیار کیے جائیں گے اور ساتھ ہی اس عمل سے پھیلنے والی گھناؤنی بیماری ، ایڈس ( جو ہم جنس پرستوں میں عام ہے ) کی روک تھام کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں گی؟

ہم جنس پرستی سے متعلق یہ تو سماجی حالات ہیں جن سے غافل ہو کر فیصلہ سنایاگیا ہے ، تاہم اس بات کو بھی نظر نہیں کیا جاسکتاکہ ہم جنس پرست طبقہ کی طرف سے انسانی حقوق ، آزادی رائے وغیرہ کی دوہائی دے کر اپنے گناہ کو درست بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ،جب کہ سچائی اور حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم جنس پرستوں کے کون سے انسانی حقوق اور آزادی رائے پر قد غن لگائی گئی ہے۔کیا اس طبقہ کو رہنے سہنے او ر کھانے پینے سے روکا جارہا ہے، کیااسے فطری تعلق قائم کرنے سے روکا جارہا ہے، یا صرف بے راہ روی اور غیر فطری عمل کی آزادی ہی اصل آزادی رائے و آزادی ضمیر ہے۔جب کوئی شخص ایسے بے ضمیری کے عمل میں مبتلا ہویا اس کا داعی ہو تو اب اس کاضمیر ہے کہاں کہ ضمیر کی آزادی کی بات کی جائے، ہم جنس پرست کسی کا م کرنے کی آزادی کی بات توکرتے ہیں، مگر انسانی عزت و توقیر کی بات کو کیوں بھلادیتے ہیں ؟صرف ضمیر کی آزادی کی بات کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ equal rights سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کی بات کی جانی بھی ضروری ہے ۔

راقم نے سبھی ججوں کے بیانات کو بغور پڑھا ہے (دیکھیں انڈین اکسپریس ۷؍ستمبر ۲۰۱۸ء ) چیف جسٹس دیپک مشرا نے جنسی آزادی کو شخصی آزادی کا اہم ستون کہا ہے ، جسٹس روہنتن ایف نرمن نے کہا کہ ہم جنس پرست انسان کوبھی جینے کاحق ہے ، جسٹس ڈی وائی چندر چور نے کہا کہ ہم جنسی پر پابندی صرف اخلاقی بنیاد پر لگائی گئی تھی جو کہ دستور کے منافی ہے ، خاتون جج اندو ملہوترا نے کہا کہ ہر ایک کو رازداری اور عزت کی زندگی کا حق دیا گیا ہے ۔ان سبھی ججوں کے بیانات سے ایک مشترکہ بات جو سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ شخصی آزادی ، آزادی رائے اور ضمیر کی آزادی اصل بنیاد ہے جس سے کسی کو محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ سب سے پہلا میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر آزادی غیر محدود ہے؟ سوال کا جواب خود سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ نے 2012میں ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ’’ آزادی رائے غیر محدود نہیں ہے، میڈیا والوں کو ’لکشمن ریکھا‘کے بارے میں جاننا چاہیے، جس سے وہ آگے نہ بڑھیں ۔‘‘

سپریم کورٹ کے اس قانونی وضاحت کے بعد یہ بات صاف طریقے سے کہی جاسکتی ہے کہ آزادی رائے کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے اور وہ ذمہ داری ہے خاندان اور سماج کو بچانے کی ۔اگر کسی کی شخصی آزادی سے سماج اور خاندان متاثر ہو تو یقیناًاس شخصی آزادی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے کئی صوبوں میں شراب پر پابندی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمار ے ملک میں شادی شدہ مر د کے ساتھ شادی شدہ خواتین سے جسمانی تعلق قائم کرنے کی پابندی ہے ، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جانوروں کے ساتھ بدکاری پر پابندی برقرار رکھی ، ورنہ اسی رائٹ ٹو پرائیویسی کا استعمال کرتے ہوئے ایسی بہت ساری خواتین ہیں جو کتے کے ساتھ جسمانی تعلق کو درست ٹھہراسکتی ہیں اور ایسے بہت سارے مرد ہیں جو بکری کے ساتھ تعلق کو درست ٹھہراسکتے ہیں ۔ یہی رائٹ ٹو پرائیویسی اور ضمیر کی آزادی کا حوالہ دے کر کچھ بدکار لوگ اپنے خونی رشتہ داروں سے جسمانی تعلق قائم کرسکتے ہیں ، تو کیا سپریم کورٹ اس کی اجازت دے دے گا ؟نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں بھی سپریم کورٹ کے ذریعہ ممنوع ہے، حالاں کہ وہاں بھی شخصی آ زادی کا حوالہ دے کر اسے درست ٹھہرا سکتا ہے ۔بہت ساری ریاستوں میں نشہ آور اشیاء پر پابندی ہے ، تو کیا کوئی شخص دستورمیں اپنی آزادی کاحوالہ دے کر اسے چیلنچ کرسکتا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ ہم جنسی سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے موقر سپریم کورٹ نے بھی شاید شخصی آزادی کا لکشمن ریکھا سمجھا ہے، اس لیے تودفعہ 377 کا وہ حصہ جو جانور سے جنسی تعلق قائم کرنے سے تعلق رکھتا ہے ، اسے باقی رکھا گیا ہے ۔

کسی انسان کی بنیادی آزادی اس کی سماجی ذمہ داری سے اوپر نہیں ہوسکتی ہے ۔دنیا میں بنیادی حقوق سے متعلق چارٹرس سب سے پہلے اقوام متحدہ نے تیار کرایا ہے ۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ہیومن رائٹس چارٹر س کو ہی بنیاد بنا کر پوری دنیا میں آزادی ضمیر ، شخصی آزادی کو دستور کی روح قرارد ی گئی ہے ۔اس چارٹر میں ضمیر کی آزادی کو بہت ہی ترجیح دی گئی ہے ۔ دنیا بھر کی ہم جنس پر ست کمیونٹیاں اس کا ہی حوالہ پیش کرتی ہیں ۔مگر اس چارٹرکی دفعہ ۱۶؍میں صاف لکھا ہے : ’’بالغ مرد وخواتین ، نسل ، قومیت اور مذہب سے اوپر اٹھ کر شادی کرنے اور گھر بسانے کا حق رکھتے ہیں ۔خاندان، سماج کا فطری اور بنیادی حصہ ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری سماج اور سرکار دونوں پر ہے ‘‘۔

اب سوال یہ ہے کہ اس قانون میں مرد و عورت کے درمیان ہی شادی کا ذکر ہے اور سب سے بڑی بات ہے کہ خاندان کو سما ج کا بنیادی حصہ کہا گیا ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری سرکار پر ہے ۔اب اگر ہم جنسی جیسے قبیح عمل کو رائج کیا گیا تو خاندان کا تحفظ کیسے ممکن ہو گا؟اور سماج سے متعلق ذمہ داری کیسے پوری ہوگی ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی ضمیر میں اخلاق بہت ہی اہم بنیاد ہے ،جس کی بنیاد پر ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، اگر ہم نے آزادی ضمیر سے اخلاق کو باہر کردیا تو تمام انسانی حقوق کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔مجھے حیرت ہے کہ اس حقیقت کو فراموش کرکے اقوام متحدہ جیسے ادارے نے بھی ایسے فیصلے کا استقبال کیا اور اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹرس میں خاندان کے تحفظ سے متعلق حقیقت سے آنکھ موند لیا ۔ کچھ سالوں سے اس نے دفعہ 16 کے تاریخی حقیقت کو بھلا کر شخصی آزادی کے نام پر بیماری ، آوارگی اور غیر فطری شیطانی عمل کو فروغ دینے میں لگا ہواہے جو یقیناًقابل مذمت ہے

Share on Facebook
Share on Twitter
Please reload

Recent Posts

August 9, 2017

Please reload

Follow Us
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH
  • Jamiat Ulama-i-Hind JUH